A Few Hours, Then Back to the Cell: Imran Khan’s Hospital Visit Raises More Questions Than Answers

 

 

 

 

Imran Khan’s Hospital Transfer and Return to Jail: A Timeline of Controversy

Imran Khan, PTI founder and former PM, was briefly moved from Adiala Jail to hospital for a check-up, then sent back within hours — reigniting debate over his health and treatment in custody.

 

 

 

 

Background: Years Behind Bars

Khan, 73, has been jailed since August 2023 in the Toshakhana case, a verdict he calls politically motivated. He has since been moved between jails and faced multiple legal cases.

PTI and Khan’s family have long raised health concerns — restricted family access, and reports of fluctuating blood pressure, anxiety, and vision problems.

 

 

 

The Supreme Court’s Intervention

On August 18, the Supreme Court ordered Khan’s transfer to Shifa International Hospital within 48 hours, after a cardiac board flagged irregular blood pressure and anxiety. It also ordered a medical board (including his sister and personal physician) and family access at the hospital.

The government resisted, filing a review petition calling the order beyond the court’s jurisdiction. The petition was initially returned on procedural grounds, delaying compliance and prompting PTI to threaten contempt proceedings.

 

 

 

The Hospital Visit and Sudden Return

In the early hours of August 21, Khan was moved under heavy security — but examined at government-run PIMS instead of Shifa. Minister Attaullah Tarar cited a “security situation” caused by PTI supporters near Shifa.

A specialist team declared Khan “medically fit.” His sister Uzma Khan was present. By around 5 a.m., he was sent back to his Adiala Jail cell.

 

 

 

 

“He Wasn’t Fine” — PTI and Family Push Back

PTI and Khan’s family called it a formality, not genuine treatment. They had expected weeks of hospitalization, per the court’s order, until at least the September 16 hearing.

Uzma Khan said Khan complained of repeated mistreatment and lack of reading material or TV, and that his high BP was anxiety-linked with no prior history. PTI called the quick “fit” declaration and pre-dawn return “questionable.”

PTI also says examining him at PIMS (not Shifa) without his personal physician violated the court order, and plans a contempt petition. KP CM Sohail Afridi called it “contempt of the Supreme Court.”

The government maintains doctors, not politics, decided Khan was fit to remain in jail, and says further hospital visits remain possible if needed.

 

 

 

 

What Happens Next

The government’s review petition is pending, and PTI’s contempt petition could reach court before the September 16 hearing. PTI also plans a long march in late September.

Bottom line: the government says doctors cleared Khan for jail; his family and party say he wasn’t given the sustained care the court ordered.

 

 

 

Pakistan tehreek e insaf

 

 

 

عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور جیل واپسی: ایک متنازعہ سلسلہ

پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے چیک اپ کے لیے مختصر وقت کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، پھر چند گھنٹوں میں واپس بھیج دیا گیا — جس سے ان کی صحت اور جیل میں سلوک پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی۔

 

 

 

پس منظر: برسوں کی قید

73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے توشہ خانہ کیس میں قید ہیں، جسے وہ اور ان کی جماعت سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ اس دوران انہیں مختلف جیلوں میں منتقل کیا گیا اور کئی مقدمات کا سامنا رہا۔

پی ٹی آئی اور عمران خان کے خاندان نے عرصے سے صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے — خاندان تک محدود رسائی، اور بلڈ پریشر، ذہنی دباؤ اور بینائی کے مسائل کی اطلاعات۔

 

 

 

سپریم کورٹ کا حکم

18 اگست کو سپریم کورٹ نے 48 گھنٹوں کے اندر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، یہ فیصلہ کارڈیک بورڈ کی جانب سے بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کی نشاندہی کے بعد آیا۔ عدالت نے میڈیکل بورڈ (بشمول ان کی بہن اور ذاتی معالج) اور ہسپتال میں خاندان کی رسائی کا بھی حکم دیا۔

حکومت نے مزاحمت کرتے ہوئے نظرثانی درخواست دائر کی، جس میں حکم کو عدالتی دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا گیا۔ درخواست ابتدائی طور پر طریقہ کار کی خامیوں پر واپس کر دی گئی، جس سے تعمیل میں تاخیر ہوئی اور پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی کارروائی کی دھمکی دی۔

 

 

 

 

 

ہسپتال جانا اور اچانک واپسی

21 اگست کی صبح سویرے عمران خان کو سخت سکیورٹی میں منتقل کیا گیا — مگر شفاء کے بجائے سرکاری پمز ہسپتال میں معائنہ کیا گیا۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے شفاء کے قریب پی ٹی آئی کارکنوں کی وجہ سے “سکیورٹی صورتحال” کا حوالہ دیا۔

ماہرین کی ٹیم نے عمران خان کو “طبی طور پر فٹ” قرار دیا۔ ان کی بہن عظمیٰ خان موجود تھیں۔ صبح تقریباً 5 بجے انہیں واپس اڈیالہ جیل کی کوٹھڑی میں بھیج دیا گیا۔

 

 

 

 

 

“وہ ٹھیک نہیں تھے” — پی ٹی آئی اور خاندان کا احتجاج

پی ٹی آئی اور عمران خان کے خاندان نے اسے حقیقی علاج نہیں بلکہ محض خانہ پری قرار دیا۔ عدالتی حکم کے مطابق انہیں 16 ستمبر کی سماعت تک ہفتوں ہسپتال میں رہنے کی توقع تھی۔

عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان نے بار بار بدسلوکی اور کتابیں یا ٹی وی نہ ملنے کی شکایت کی، اور ان کا بلند بلڈ پریشر ذہنی دباؤ کی وجہ سے تھا جبکہ اس کی کوئی سابقہ تاریخ نہیں تھی۔ پی ٹی آئی نے چند گھنٹوں میں “فٹ” قرار دینے اور صبح سویرے واپسی کو “مشکوک” قرار دیا۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ شفاء کے بجائے پمز میں معائنہ اور ذاتی معالج کی عدم موجودگی عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے، اور وہ توہین عدالت کی درخواست دائر کرے گی۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسے “سپریم کورٹ کی توہین” قرار دیا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹروں نے، نہ کہ سیاست نے، فیصلہ کیا کہ عمران خان جیل میں رہنے کے قابل ہیں، اور ضرورت پڑنے پر مزید ہسپتال منتقلی ممکن ہے۔

 

 

 

 

آگے کیا ہوگا

حکومت کی نظرثانی درخواست زیر التوا ہے، اور پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست 16 ستمبر کی سماعت سے پہلے عدالت میں جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی ستمبر کے آخر میں لانگ مارچ کا بھی اعلان کر چکی ہے۔

خلاصہ: حکومت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے عمران خان کو جیل کے لیے فٹ قرار دیا؛ ان کا خاندان اور جماعت کہتے ہیں کہ انہیں عدالت کے حکم کے مطابق مکمل علاج نہیں دیا گیا۔

 

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *